سرچ کریں

Displaying 61 to 70 out of 5987 results

65

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک خط کی حقیقت

سوال: رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین،رسو ل اللہ ﷺکی طر ف سےعیسائیوں کے نام لکھا گیا خط یہ پیغام محمدبن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے عیسائیت قبول کرنے والوں کے لیے ہے،خواہ دور ہوں یا نزدیک ۔یہ ایک عہد ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں،بے شک میں، میرے خدمتگار،میرے مددگار اورپیروکار ان کا تحفظ کریں گے،کیونکہ عیسائی بھی میرے شہر ی ہیں اور خدا کی قسم میں اس سے پرہیز کروں گا جو ان کو ناخوش کرے، ان پر کوئی جبر نہیں ہوگا،نہ ان کے منصفوں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے گا اور نہ ہی ان کے راہبوں کوان کی خانقاہوں سے۔ ان کی عبادت گاہوں کو کوئی بھی تباہ نہیں کرے گا ، نقصان نہیں پہنچائے گا اور نہ ہی وہاں سے کوئی شے مسلمانوں کی عبادت گاہوں میں لے جائی جائے گی،اگر کسی نے وہاں سے کوئی چیز لی،تو وہ خدا کا عہد توڑنے اور اس کے نبی کی نافرمانی کا مُرتکب ہوگا ، بے شک وہ میرے اتحادی ہیں اورانہیں ان تمام کے خلاف میری امان حاصل ہے،جن سے وہ نفرت کرتے ہیں،کوئی بھی انہیں سفر یا جنگ پر مجبور نہیں کرے گا،بلکہ مسلمان ان کے لیے جنگ کریں گے، اگر کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان سے شادی کرے گی، تو ایسا اس کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوگااوراس عورت کو عبادت کے لیے گِرجا گھر جانے سے نہیں روکا جائے گا،ان کے گرجا گھروں کا احترام کیا جائے گا،انہیں گرجا گھروں کی مرمّت یا اپنے معاہدو ں کے احترام سے نہیں روکا جائے گا،قوم میں سے کوئی بھی فرد ، یعنی کوئی بھی مسلمان روزِ قیامت تک اس معاہدے سے رُو گردانی نہیں کرے گا ۔( ) (1)اس خط کے تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عیسائیوں کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ فرمایا تھا؟ (2)اگر کوئی معاہدہ فرمایا تھا ،تو اس کی اصل اور حقیقت کیا ہے؟ (3)کیا اسلامی ریاست میں عیسائیوں کو ہرمعاملے میں کھلی آزادی ہے اورکسی بھی صورت میں کسی عیسائی کو قانوناً سزا نہیں دی جاسکتی؟ (4)کیاہرفرداپنی مرضی اور چاہت سے کوئی بھی دین اختیار کرسکتا ہے،چاہے دین اسلام کے علاوہ ہو اور پھر بھی وہ حق پر ہو گا؟اور کیا تمام مذاہبِ عالَم دُرست اور قابلِ احترام ہیں؟

65
67

قبر بیٹھنے کی صورت میں قبر کے اوپر کی تعمیر نو کرسکتے ہیں؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج سے تقریباََ21سال قبل میری والدہ کاانتقال ہواجن کوایک وقفی قبرستان میں دفن کیا گیا۔بعداَزتدفین جب قبرتعمیرکی گئی توقبرکے سلیپ کے اوپرچاروں طرف دیواریں کھڑی کردی گئیں اوربیچ والاحصہ کچّارکھاگیا۔اب چونکہ اس تعمیر کوکافی عرصہ ہوگیااورقبربھی کچھ بیٹھ گئی ہےاندیشہ ہے کہ اگرقبرکی مرمّت نہ کی گئی توکچھ عرصہ بعداُس کی حالت اورزیادہ خستہ ہوجائے گی لہذاہم چاہتےہیں کہ قبرکی تعمیرات کریں ۔اس کے لئے پہلے اوپر کی پرانی تعمیرات ختم کرناہوں گی اس حدّتک کہ سلیب نظرآجائیں لیکن اس میں قبر کُشائی کی نوبت نہ آئے گی پھرنئے سرے سے قبرکی تعمیرات کریں گے اوراُس کاطریقہ یہ ہوگاکہ ہم بیچ کے مٹی والے حصے پرسَریے کاجال بچھاکر قبرکے اوپرچاروں طرف دیواربنائیں گےاوراُس پرماربل بھی لگائیں گےاوربیچ کاحصہ کچّاہی رکھیں گے۔کیاشرعااس اندازمیں قبرتعمیرکرنے کی ہمیں اجازت ہے؟

67