سجدے میں جاتے ہوئے یا رکوع و سجدے سے اٹھتے ہوئے کپڑا درست کرنا کیسا ؟

مجیب:مفتی فضیل صاحب مدظلہ العالی

فتوی نمبر:FMD-1469

تاریخ اجراء:11ذوالقعدۃ الحرام 1440ھ/15جولائی2019ء

دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت

(دعوت اسلامی)

سوال

    کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سجدے میں جاتے وقت شلوار کو اوپر کرنایا قمیص کو سمیٹنا ، اسی طرح رکوع یا سجدے سے اٹھتے وقت ایک یا دونوں ہاتھوں سے قمیص کودرست کرنا  کیسا ہے؟

سائل:محمد عبداللہ (5-G  ، نیو کراچی)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

    سجدے میں جاتے وقت ایک ساتھ دونوں ہاتھوں سے شلوار اوپر کی طرف کھینچنا یا قمیص کا دامن سمیٹنا مکروہ تحریمی  یعنی ناجائز و گناہ ہے کہ یہ کفِ ثوب میں داخل  ہے جس سے حدیث شریف میں منع فرمایا گیا ہے اور ایسی صورت میں نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔

    البتہ رکوع سے اٹھنے کے بعد یا سجدہ سے قیام کی طرف آنے کے بعد کبھی کبھار کپڑا جسم سے چپک جاتا ہے ، تو اسے عمل قلیل کے ذریعہ  چھڑانے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ عمل مفید ہےاورایک ہاتھ سے بآسانی ہوسکتا ہے۔اس لیے اس میں دونوں ہاتھوں کا استعمال نہ کیا جائے کہ ضرورت ایک ہاتھ سے بھی پوری ہوجاتی ہے ۔ اس موقع پر دوسرے ہاتھ کو بھی استعمال کرنا بے فائدہ ہوگا اور نماز میں عمل قلیل غیر مفید کا ارتکاب کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔

    یاد رہے کہ اگر دونوں ہاتھوں کا استعمال اس انداز سے کیا کہ دو ر سے کوئی دیکھے تو اس کاظن غالب یہی ہو کہ یہ نماز میں نہیں ہے تویہ صورت  عمل کثیرہوگی ، جس کی بناء پر نماز ہی فاسد ہوجائے گی ۔

    فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”یکرہ للمصلی ان یعبث بثوبہ او لحیتہ او جسدہ وان یکف ثوبہ بان یرفع ثوبہ من بین یدیہ او من خلفہ اذا اراد السجود کذا فی معراج الدرایۃ ولا باس بان ینفض ثوبہ کیلا یلتف بجسدہ فی الرکوع “یعنی نمازی کا اپنے کپڑے، داڑھی یا جسم کے ساتھ کھیلنا مکروہ ہے اور کپڑا سمیٹنا یوں کہ سجدہ کا ارادہ کرتے وقت آگے یا پیچھے سے کپڑا اٹھالے یہ بھی مکروہ ہے ۔ جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے اور کپڑا جھاڑنا  تاکہ رکوع میں جسم سے چپک نہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔

(فتاویٰ عالمگیری ، جلد 1، صفحہ 105، مطبوعہ کوئٹہ )

    علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ ردالمحتار میں نقل فرماتے ہیں:”قال فی النھایۃ وحاصلہ  ان کل عمل ھو مفید للمصلی فلا باس بہ ،اصلہ ماروی ان  النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عرق فی صلاتہ فسلت العرق عن جبینہ ای مسحہ لانہ کان یوذیہ فکان مفیدا و فی زمن الصیف کان اذا قام من السجود نفض ثوبہ یمنۃ او  یسرۃ لانہ کان مفیدا کی لاتبقی صورۃ۔ فامامالیس بمفید فھو عبث “ یعنی نہایہ میں ہے ”حاصل کلام یہ ہے کہ ہر وہ عمل کہ جو نمازی کے لیے  مفید ہو ، اسے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی اصل یہ روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نماز میں پسینہ آیا تو آپ نے پونچھ لیا یعنی ہاتھ پھیر کر صاف کردیا، چونکہ یہ تکلیف کا باعث ہے لہٰذا یہ مفید عمل ہے اور گرمی کے زمانہ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب سجدہ سے قیام فرماتے تو دائیں یا بائیں طرف سے کپڑا چھڑالیتے  کہ یہ بھی  مفید عمل ہے تاکہ جسم کی ہیئت ظاہر نہ ہو ۔ رہا وہ عمل کہ جو مفید نہ ہو تو وہ عبث و مکروہ ہے ۔

(ردالمحتار ، جلد 2، صفحہ 490، مطبوعہ  کوئٹہ )

    بہار شریعت مکروہات تحریمی کے بیان میں ہے :”کپڑا سمیٹنا، مثلا سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پیچھے سے اٹھالینا ، اگرچہ گرد سے بچانے کے لیے کیا ہو اور اگر بلاوجہ ہو تو اور زیادہ مکروہ ہے ۔ “

(بہار شریعت ، جلد 1،حصہ3، صفحہ 624، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )

    فتاویٰ فیض الرسول میں ہے :”کپڑا سمیٹنا جیسا کہ ناواقف لوگ سجدہ میں جاتے ہوئے آگے یا پیچھے کے کپڑے کو اٹھاتے ہیں، یہ مفسد نماز نہیں بلکہ مکروہ تحریمی  اور ناجائز ہے ۔ جس نماز میں ایسا کیا گیا ، اس نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ “

(فتاویٰ فیض الرسول ، جلد 1، صفحہ 276، مطبوعہ شبیر برادرز )

    صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں نماز کے مکروہات تنزیہی کی صورتوں کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ”ہر وہ عملِ قلیل کہ مصلی کے لئے مفید ہو جائز ہےاور جو مفید نہ ہو ، مکروہ ہے۔“

(بہارِ شریعت، جلد1،حصہ3، صفحہ631، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَرَسُوْلُہ اَعْلَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم